موبی لنک کے اشتہارمیں عورت اور ہمارا قانون

mobilink ad on pakistani newspaper nargis fakhri

بیس دسمبر 2015 کو اردو اخبارات میں چھپنے والے اشتہار کی تصویر

موبی لنک کے اشتہار میں خاتون کی تصویر پہ سیخ پا ہونے کی ضرورت نہیں ، موبی لنک کو کام کرنے کی سہولت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین نے دی ہے اور اسی آئین و قانون کے مطابق ماڈلنگ کی اجازت ہے۔ اسی کے تحت اخبارات و نشریاتی ادارے چل رہے ہیں اور اسلامی ملک کے سنسر بورڈ نے اس اشتہار کو" اوکے " کیا ہوگا

Advertisement
Null

اگر اسمیں کوئی ایسی " قباحت" ہوتی تو وہ پاس ہی نا کرتے { ہمیں اپنے حکمرانوں کی نیت پہ شک نہیں کرنا چاھئِے وہ دل میں متقی ہیں سلوک کی منازل طے کرچکے ہیں بس ہمیں سمجھ نہیں ھے }۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے ڈراموں اور اشتہارات میں خواتین کے بیڈ رومز کے مناظر دکھائے جاتے ہیں اب موبی لنک کی مرضی اپنی سم خواتین کو لٹا کر بیچے یا بھگا کر ۔۔۔۔ آپ اور میں کون ہوتے ہیں اعتراض کرنے والے ؟؟؟

تحریر: سلمان سرور شیخ پاکستانی

نے21 دسمبر 2015کو شایع کیا۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *