بلوچستان سے گرفتار ہونے والا بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ ایجنٹ کا مددگار کون؟ حیرت انگیز انکشاف

indian raw agent in balochistan passport and pictureبھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ایجنٹ اور بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر بھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری میڈیا کو من بھاتا موضوع ہے۔ برساتی مینڈکوں کے طرح کے تجزیہ کار ٹرٹرا کر دماغ کی دھی کر رہے ہیں۔ ہر رپورٹر ٹیبل سٹوری پر ٹیبل سٹوری مار کر ہیرو بن رہا ہے۔ ہر کسی کے پاس اندرکی خبر موجود ہے۔

Advertisement
Null

لیکن کسی میڈیا ہاوس میں اتنی جرات نہیں، کہ حقائق بیان کر سکے۔ یہ بھارتی ایجنٹ دراصل بھارت ایران اور افغانستان کے مشترکہ جاسوسی نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ یہ نیٹ ورک افغان کٹ پُتکی حکومت کی انٹلیجنس ایجنسی اور ایرانی انٹلیجنس کا بھارتی را کے ساتھ کٹ جوڑ سے بنا ہوا ہے۔ جس کا مقصد ہر حوالے سے پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنا ہے۔ اس کا ایک آپریشن ہیڈکواٹر ایرانی بندر گاہ یرانی پورٹ چاہ بہار میں ہے، اور دوسرا افغان صوبے ننگرہار میں۔ بھوشن یادیو بھی ایرانی بندرگاہ چاہ بہار میں ہی تعنات تھا، اس بندگاہ پر را کے کم ازکم ایک سو سے زیادہ افسران تعنات ہیں۔ دوسری جانب افغانساتن میں ننگرہار کے بھارتی کیمپ میں 180 کے قریب را کے افسران تعنات ہیں۔

ایک انکشاف یہ بھی ہے کہ یہ نیٹ ورک پاکستان میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر تفریق پیدا کر رہا ہے، اور ایک فرقے کے لوگوں کو منظم اور انہیں عسکری تربیت مہیا کر رہا ہے۔

مہتاب عزیز

نے26 مارچ 2016کو شایع کیا۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *