صحافت کا سر آج شرم سے جھک گیا

اقرارالحسن بظاہر ایم کیوایم کے رہنما خواجہ اظہارالحسن کی ایماء پر اپنے سہولت کار صحافی کے ذریعے سیکیورٹی گارڈ کے ہمراہ سندھ اسمبلی میں داخل ہوا اور اپنے عمل کو از خود ایوان کی سیکیورٹی کا بھانڈہ پھوڑ دینے کے مترادف قرار دیدیا.

Advertisement
Null

اقرار الحسن نے ایوان میں صحافیوں کی عزت خاک میں ملادی, موصوف کو سہولت کار صحافی کی وجہ سے مرکزی دروازے سے اندر جانے کی اجازت ملی جبکہ اس موقع پر گارڈ نے مزاحمت بھی کی.

اب ایوان میں کسی صحافی کو بغیرچیکنگ اندر جانے کی اجازت نہیں ملے گی, آج اقرارالحسن کے عمل سے پہلے صحافیوں کا چہرہ ان کی ضمانت تھا, شناختی دستاویزات اور اجازت نامہ تک طلب نہیں کیا جاتا تھا اور اقرارالحسن نے ایوان کی اسی محبت کا ناجائز فائدہ اٹھایا.

اجازت نامہ ہونے کے باوجود کسی صحافی کو فلور پر جانے کی اجازت نہیں ہوتی مگر اقرار الحسن نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی, پھر گارڈز رکاوٹ بنا تو اس کو دھکا دے کر اندر داخل ہوگیا
سیاست اور صحافت کا وقار خاک میں ملاتی یہ کس قسم کی صحافت ہے؟

اقرارالحسن صاحب ذرا خیبرپختونخوا, پنجاب اور بلوچستان اسمبلی میں ایسا کرکے دکھائیں, فوراْ گولی ماردی جائے گی, سندھ ا پاکستان کا وہ واحد ایوان ہے, جس پر صحافی صبح شام تنقید کرتے ہیں مگر مجال ہے کہ کبھی براہ راست کوریج پر بھی ایک لمحے کے لئے پابندی لگی ہو.

پاکستان کے کس ایوان میں پریس گیلری میں بیٹھ کر براہ راست کوریج کی ایسی سہولت ہے؟

صحافیوں نے جو عزت برسوں میں بنائی تھی, وہ منٹوں میں خاک کردی گئی.
تحریر: خالد سومرو

نے29 اپریل 2016کو شایع کیا۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *