اقرار الحسن یہ فیکٹری نہیں سندھ کا مقدس ایوان تھا؟؟؟

اقرار صاحب، آپ کو مکمل حق تھا کہ آپ اسٹنگ آپریشن کرتے،  آپ کسی کے گریبان میں بھی پکڑتے، غریب ملازمین کو رشوت دیکر ان کے خلوص سے وہ تمام ریکارڈنگ حاصل کرتے جو آپ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن آپ کو یہ حق نہیں تھا کہ آپ رولز پڑھے بغیر صرف اپنے پنتیس منٹ کےشو کے لیے سندھ کے مقدس ایوان میں گھس جاتے، وہاں شور شرابا کرتے۔ یہ سندھ اسمبلی تھی کوئی جعلی کوکنگ آئل بنانے والی فیکٹری نہیں۔

Advertisement
Null

آپ کو اپنے آپریشن کے لیے اسمبلی کےاندر اسلحہ لانے کے بعد تب تک انتظار کرنا چاہیے تھا جب اسمبلی کا بزنس پورا ہوتا۔ آپ گیلری سے باھر نکلتے اور اسپیکر اور سی ایم سے بات کر کہ سیکیورٹی لیپس پر بات کرتے.

موقف لیکر جانےکے بعد یہ تمام چیزیں اپنےُچینل پر دکھاتے۔ تب کوئی ایشو نہیں تھا۔ مگر ایک قانونساز اسمبلی میں جس دھڑلئےُسےآپ سی ایم کی کرسی تک جا پنہچے۔ آپ گیلری سی بیٹھ کر بات کر رہے تھے۔ یہ آپ کا حق نہیں۔  ایک اینکر کو زیب نہیں دیتا تھا۔

آئین میں حلف نہ لینے والا میمبر بھی اس اسمبلی میں بیٹھ نہیں سکتا وہ بھی اجنبی ہوتا ہے۔ لیکن آپ نے تمام حدود پار کیے۔ صرف اس لیے کہ آپ ٹی وی کے اینکر تھے۔ آپ سمجھتے تھے کہ جو ملازمین آپ سے سیلیفیز بنوا کر آپ کو عزت اور پروٹوکول دیکر اندر بٹھا رہے تھے ان کی محبت کا ناجائز فائدہ اٹھا کر آپ نے ان کے پیار و اعتماد کو ٹھیس پنہچایا۔ انسان چوبیس گھنٹےاپنےپروگرام کو ھٹ کرنے کے لئے اپنے چاہنے والوں سے کھلواڑ نہیں کرتا۔

اقرارالحسن صاحب آپ کو معلوم ہے کہ یہ سندھ اسمبلی ایک بلڈنگ کا نام نہیں۔ صرف چند برےاچھے لوگوں کے جمع ہونےکا نام نہیں۔ یہ سندھ کے وجود کی علامت ہے۔ آپ نےسیکیورٹی لیپس کےنام پر کتنے لوگوں سے دھوکا کیا۔  آپ کے بندےجو پسٹل لائے تھے دو دن قبل پیسے لیکر اسمبلی ملازمین کے پاس گئے کسی نے ان سے ایک رپیہ تک نہیں۔

دوستی رکھ کر ایک پرفیوم  کے بوتل ھاتھ میں تھما کر آپ نےبڑا تیر مارا۔ مگر آپ کو اس شو میں پانچ ارب کی مبینہ کرپشن بھی دکھانی چاہئی تھی۔ آپ نے کئی غریب ملازمین کے روزگار کے ساتھ کھیلا ہے۔ یہ صحافت نہیں اداکاری تھی جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔۔۔

اور  آخر میں آپ کو یاد ہوگا سیکیورٹی لیپس جی ایچ کیو میں بھی ہوا تھا مہران بیس میں بھی۔ جو کچھ آپ نے ایک اسمبلی میں کیا وہ جی ایچ کیو تو کیا کسی چھانونی میں کر کہ دکھائیں تو آپ کو معلوم ہوجاتا کہ ریٹنگ کیا ہوتی ہے؟؟؟

آپ نےجو کچھ کیا اس پر تیس برس کےپارلیمانی رپورٹنگ کرنےُوالے بھی مذمت کر رہے ہیں سوائے آپ کے اپنے چینل کے۔

تحریر: سالک صاحب

نے30 اپریل 2016کو شایع کیا۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *