کراچی یونیورسٹی شعبہ ابلاغ عامہ کے زیر اہتمام عالمی یوم آزادی صحافت پر سیمینار

کراچی: سینئر صحافیوں اور دانشوروں نے کہا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی پر پابندی کا سب سے بڑا نقصان اس کے ملک کے ٹکڑے ہونے کی صورت میں سامنے آیا،افسوس ہم نے سبق نہیں سیکھا۔ آج ماضی کے مقابلے میں ذرائع ابلاغ قدرے آزاد ہیں لیکن آزادی کا یہ دور کمرشل ہے۔آزادی صحافت اور آزادی اظہاررائے کی بات کرنے والے اقتدار میں آنے کے بعد اپنا منشور بھولتے رہے ہیں۔

Advertisement
Null

شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی  کے زیر اہتمام عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پرمنعقدہ سیمینار بعنوان ’’آئین کی شق19-A  اور پاکستانی صحافتی منظر نامہ‘‘ سے معروف صحافیوں اور دانشوروں نے خطاب کیا۔مقررین میں روزنامہ جنگ کے ڈپٹی ایڈیٹر مدثر مرزا،روزنامہ ایکسپریس کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر طاہر نجمی ،صدرشعبہ پروفیسر ڈاکٹر سیمی نغمانہ ،پروفیسر توصیف احمدخان ، کالم نگار وصحافی سید علمدار حیدر،اُسامہ شفیق اور عابد حسین شامل تھے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مدثر مرزا نے کہا کہ ہمارے ذرائع ابلاغ پر پابندی کے باعث 1971 ءمیں عوام تک حقائق نہیں پہنچ سکے جس کے باعث اس ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ۔ذرائع ابلاغ کی آزادی کو محدود کرنے میں غیر ریاستی اداروں کا کردار بھی نمایاں رہاہے اور ایک عرصہ تک ان عناصر کے ہاتھوں ذرائع ابلاغ یرغمال بنے رہے۔

طاہر نجمی نے  کہا کہ اب صحافتی امور کو مدیر اور صحافیوں سے زیادہ کارپوریٹ میڈیا اور انتظامیہ کے لوگ چلاتے ہیں۔ان کا موقف ہے کہ اداروں کو چلانے کے لئے جس قدر سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے وہ ریٹنگ کے ذریعے پوری ہوتی ہے لہذاانہیں ریٹنگ کو ترجیح میں شامل کرنا ضروری ہوتاہے اسی سبب آج کا صحافی ماضی کے مقابلے میں زیادہ اجرت بھی حاصل کررہاہے۔

ممتاز کالم نگار پروفیسر توصیف احمد خان نے  کہا کہ آزادی صحافت بنیادی طور پر عوام کا حق ہے اور یہ جمہوریت اور جمہوری معاشروں کے لئے بے حد  ضروری ہے ۔آزادی اظہاررائے کے بغیر جمہوریت قائم نہیں رہ سکتی مغرب کی ترقی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہاں صحیح معنوں میں آزادی اظہار رائے اور جمہوریت قائم ہوئی لیکن ہمارے ہاں افسوس کا مقام ہے کہ سندھ حکومت نے ابھی تک اطلاعات کے حصول کا قانون منظور نہیں کیا حالانکہ یہ پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور کا حصہ رہاہے۔

پروفیسر ڈاکٹر سیمی نغمانہ نے  کہا کہ ممتازصحافی ضمیر نیازی مرحوم نے آزادی صحافت کے لئے گرانقدر خدمات انجام دی ہیں ۔آزادی صحافت کے لئے صحافیوں نے صدرضیا الحق کے کھٹن دور میں بھی کام کیا اب بھی کررہے ہیں۔ہمارا الیکٹرانک میڈیا ابھی ارتقائی مراحل سے گزررہاہے اسی لئے ابھی معیار پر صدفیصد نہیں اُترتا۔آزادی پر پابندی کے باعث ہم نفسیاتی طور پر بھی ازخود سنسر کرکے لکھنے کے عادی ہو گئے ہیں.

سینئر صحافی عابد حسین نے کہا کہ آزادی کا مطلب مادر پدر آزادی ہرگز نہیں ہے، نہ ہی یہ صحافیوں کا مطالبہ ہے۔ البتہ جس قدر بھی آزادی اس وقت حاصل ہے  اس کا سہرا سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو جاتا ہے ،آزادی اظہار کے حق کو کسی پر انگلی اٹھانے یا پگڑی اچھالنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔آزادی اظہار کا حق  ذمہ داری  کا تقاضہ بھی کرتا ہے۔

سیمینار کے میزبان شعبہ ابلاغ عامہ کے اُستاد اُسامہ شفیق نے کہا کہ آج کا دن پوری دنیا میں آزادی صحافت کے نام سے منایا جاتا ہے۔عوام کو جاننے کا حق آئین پاکستان بھی دیتا ہے تاہم صوبہ سندھ میں ابھی یہ قانونی طور پر منظورنہیں ہوا ہے جس کے لئے کوششیں جاری ہیں۔

نے3 مئی 2016کو شایع کیا۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *