اظہر علی کو آئی سی سی چیمپنز ٹرافی میں موقع ملنا درست فیصلہ ہے

اظہر علیاس سال جون سے شروع ہونے والی آئی سی سی چیمپنز ٹرافی کےلئے تمام ٹیموں کی تیاری بھرپور طریقے سے جاری ہے۔ اسی سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ بھی بہترین کھلاڑیوں کی ٹیم برطانیہ بھیجنے کےلئے کوشش کی ہے۔  دوسری جانب پاکستانی شائقین ون ڈے ٹیم کی غیرمتوازن کارکردگی سے پریشان نظر آتے ہیں۔  ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا سے ہونے والی حالیہ تین سیریزمیں بھی نہ صرف کچھ نئے کھلاڑی بلکہ پرانے ہتھیاروں کو بھی آزمایا گیا لیکن نتیجہ تسلی بخش نہیں رہا۔

Advertisement
Null

اس سے پہلے ون ڈے ٹیم کی کپتانی کا سہرا اظہر علی کے سر سے اٹھ کے وکٹ کیپر سرفراز احمد کو مل گیا جس کو پاکستان کرکٹ کے سابق کھلاڑیوں نے مثبت قدم گردانا  لیکن اظہر علی کو نا صرف کپتانی بلکہ ون ڈے ٹیم سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔

اظہر علی کی طرزِ کپتانی سے اختلاف تو کافی حد تک بجا تھا لیکن ٹیم سے باہر کرنا جذباتی فیصلے سے کچھ کم نہیں تھا ۔ اگرچہ اظہر علی ون ڈے میچز میں اچھا اسٹرائیک ریٹ نہیں رکھتے لیکن کئی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر ان کو آئی سی سی چیمپنز ٹرافی میں سلیکٹ کرنا درست فیصلہ کہاجاسکتا ہے۔

گذشتہ دنوں آئی سی سی چیمپنز ٹرافی کےلئے ہونے والے پاکستانی اسکواڈ کے اعلان کے بعد ناقدین نے اظہرعلی اور عمر اکمل کی ٹیم میں واپسی کو آڑے ہاتھوں لیا۔

اظہر علی ون ڈے میں 38کااوسط اور 75کا اسٹرائیک ریٹ رکھتے ہیں جبکہ انہیں موجودہ تناظر میں اوپنرکےطور پر آزمایا جاسکتا ہے اور وہ اس پوزیشن  پر ماضی میں بھی اچھی کارکردگی دیکھا چکے ہیں۔

دوسری جانب اظہر علی کو برطانیہ میں کھیلنے کا اچھا تجربہ بھی ہے اور اس کی گواہی پچھلے سال اگست میں دورہ برطانیہ کی ون ڈے سیریز ہے۔ سیریز کے پانچ میچوں میں اظہر علی نے 41.60کی اوسط سے 208 رنزبنائے جن میں 2 نصف سینچریاں بھی شامل ہیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان ابھی تک اوپنرز کی مستقل مزاج بیٹنگ نہ ہونے کے مسئلے سے دوچار ہے اور آئی سی سی چیمپنز ٹرافی جیسے اہم ٹورنامنٹ میں اظہر علی کو چانس دینا اچھا قدم ہے۔

نعمان یونس بلاگر ہیں اور کراچی یونیورسٹی سے ماس کمیونی کیشنز میں ماسٹرز کرچکے ہیں۔ آپ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

نے29 اپریل 2017کو شایع کیا۔

آپ یہ صفحات بھی دیکھنا پسند کریں گے ۔ ۔ ۔

2 تبصرے

  1. اصل سوال یہ ہے کہ انہیں ایک روزہ ٹیم سے باہر کیوں کیا گیا؟ اگر کوئی ٹھوس وجہ تھی تو پھر سوال یہ ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت نہ کرنے کے باوجود وہ ٹیم میں واپس کیسے آئے؟ جس وقت مصباح کو ٹیسٹ ٹیم کا قائد بنایا گیا، وہ ٹیم سے باہر تھے۔ خوش قسمتی سے مصباح نے شاندار کارکردگی دکھائی اور خود کو منوایا۔ لیکن یہی فارمولا اظہر علی کے لیے اپنایا گیا مگر زیادہ سود مند ثابت نہ ہوا۔ تو پھر دوبارہ اسی فارمولے کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *